آزادکشمیر میں یکجہتی پر بدمزگی کا سایہ اور پی ٹی وی و تعمیر نو کی نااُمیدیاں ؟؟؟؟

آزاد جموں وکشمیر میں فروری کا آغاز مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا عکاس ہوتا ہے ‘ بطور وزیراعظم پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہڑتال کی کال دیکر اس کا آغاز کیا تو امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم نے پانچ فروری کو اس کا تسلسل آگے بڑھایا جو پاکستان کی سب ہی حکومتوں ‘ قومی جماعتوں کی طرف سے تحریک کشمیر کے تناظر میں ملت پاکستان کیلئے قومی دِن اور عہد عزم کا فریضہ بن چکا ہے جس کے لیے ملت پاکستان نے بڑے ایثار قربانی کے دریا عبور کیے ہیں اور آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد قطار در قطار دنیا کی تمام تر نعمتوں لدے ٹرک کے قافلے آتے رہے ‘ یہ وہ نظارہ تھا جو ناصرف امداد ‘ تعاون کا قابل رشک باب ہے بلکہ ساری دنیا سے قرضے بعنوان امداد لیکر خطہ میں ہونے والی تعمیرات میں ملت پاکستان کے ہر فرد کے اعزاز کا کمال ہے مگر اس بار یہاں آزادکشمیر میں سب سے زیادہ مرکزیت اہمیت افادیت ترجمانی والا کشمیر کونسل و قانون ساز اسمبلی کا مشترکہ اجلاس غیر ذمہ داری اور قومی ملی تحریکی تقاضوں کے بجائے سیاسی ترجیحات کو بالادستی دیے جانے کی غیر سنجیدگی کی نظر ہو گیا حتیٰ کہ پی ٹی وی بھی اس کی کارروائی کو براہ راست دکھائے جانے سے قاصر ہو گیا ‘ تو میاں محمد نواز شریف کے جلسہ نے بھی ساری توجہ اس کے بجائے اپنی طرف مبذول کروائی جو کچھ دِن بعد میں بھی ہو سکتا تھا اس جلسہ کو سینئر پارلیمنٹرین ممبر اسمبلی راجہ عبدالقیوم خان کے جانشین راجہ مظہر قیوم ایڈووکیٹ نے بلند بالا چوٹیوں سے لیکر اپنے حلقہ کی تمام یونین کونسل سے عوام کا سب سے بڑا قافلہ لا کر چار چاند لگائے تو حلقہ لچھراٹ سے ایم ایل اے چوہدری شہزاد نے بھی دوسرے بڑے جلوس کے ساتھ شریک ہو کر اپنی دھاگ بیٹھائی ‘ محترمہ نورین عارف ‘ ڈاکٹر مصطفی بشیر کے علاوہ فرید خان ‘ سردار وقارحسین ‘ خواجہ اعظم رسول ‘ سکندر نثار گیلانی ‘ یوتھ ونگ کے خالد مغل ‘ فرخ ممتاز ‘ ایم ایس ایف کے راجہ زین محمود سمیت سب نے اپنی اپنی بساط سے بڑھ کر جلسہ کی کامیابی میں کردار ادا کیا مگر جلسہ سے میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں بڑے بزرگوں کی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ نیک تمناؤں دعائیہ جذبات کا ہی ہنر دکھایا ایسا لگتا تھا جیسے وہ مائنس نواز شریف حقیقت کیلئے تیار ہو چکے ہیں اور اپنی صاحبزادی مریوم نواز کو اپنے خطاب کے بعد خود خطاب کی دعوت دیکر اپنی سیاسی پگھ اُن کے حوالے کرنے کا پیغام دے گئے ہیں آپ کی آئندہ قیادت مریم نواز ہیں تاہم کونسل اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے لیکر جلسہ تک کے احوال میں سیاسی اختلافات و خیالات کا بالادست دکھائی دینا اصل موضوع اور توقعات کو بے رنگ کر گیا ‘ آئینی اصلاحات کا وقت بتا دیتے ‘ تعمیر نو کے بقایا 46 اہم ترین منصوبہ جات کے حوالے سے اُمید دلاتے ‘ پی ٹی وی ملازمین کا حق ان کو دینے کا دلاسہ دیکر ان کا رونا بند کراتے ‘ توانائی کے منصوبہ جات کے بعد ماحولیات خطرات سمیت درپیش ایشوز پر اطمینان کی بات کرتے ‘ وزیراعظم خاقان عباسی نے چترال جلسہ میں توانائی کے منصوبہ کا افتتاح کر تے ہوئے پہلے بجلی سمیت روزگار کے متعلق چترال کی ضرورت پوری کرنے کا اعلان کیا ‘ میرپور مظفر آباد بلکہ سارے آزادکشمیر کیلئے یہی اُصول لاگو کرنے کی خوشخبری بھی سنا دیتے مگر جلسہ میں مجھے کیوں نکالا اور مشترکہ اجلاس میں بدمزگی کے ماحول نے سب کچھ دھندلا کر کے رکھ دیا ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ‘ یقیناًجس کے پاس جتنا زیادہ بڑا منصب اور ذمہ داریاں ہیں ‘ وہی زیادہ ذمہ دار ہے ‘ تحریر تقریر کو بھی بلوغت آنی چاہیے تو اس کا لیکچر دینے والوں کو بھی خطہ کے عوام خصوصاً سلطان مظفر خان کے نام سے منسوب سرزمین کے عوام کو شرمندگی ‘ ندامت سے بچانا چاہیے ‘ سوشل میڈیا ایک حقیقت ہے وہ کام ہی نہ کریں جن کے باعث بات رسوائی کا باعث بن جائے ؟؟؟؟