آزادکشمیر میں آئینی ٹخا ٹخ اور کرشنا کماری کی باتیں

مقبوضہ جموں وکشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں کے ضلع کھٹوعہ میں معصوم مسلم بچی کی آبروریزی کرتے ہوئے قتل کرنے والے جنونی ہندو درندوں کے حق میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندو ایکٹا منچ کی طرف سے ریلیوں کا انعقاد کیا گیا یہ بھارت کے اصل مائنڈ سیٹ کا وہ چہرہ ہے جس کے ساتھ کسی بھی طرح کی خوش گمانی رکھنا درندگی قبول کرنے کے ظلم سے کم نہیں ہے تو اسلام آباد کے ایوان بالا سینٹ کے انتخاب میں جنرل سیٹ پر سندھ کے ماروی جیسے عظیم پیار اخلاص کے کرداروں کی پہچان تھر سے ہندو دِلت ذات سے تعلق رکھنے والی ایک ہاری کی بیٹی کرشنا کماری کا بطور سینٹر انتخاب و خاص اقلیتی نشست پر غریب ہندو لال کا منتخب ہونا واضح کرتا ہے تقسیم برصغیر کی بنیادیں سات زمینوں جتنی گہری ہیں جس کے لیے بطور انسان و اہلیت کرشنا کو سینیٹر بنانے پر ساری ملت پاکستان کو فخر کا حق ہے تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو بھی مبارکباد کے حقدار ہیں ‘ نیشنل عوامی پارٹی کے تعاون سے جماعت اسلامی کے سینیٹر منتخب ہو کر واپس رکشہ پر گھر جانے والے خالی جیب مشتاق خان ہوں یا بلوچستان سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے انوار الحق کاکڑ جیسا عظیم نام بذات خود پاکستان ہو کسی بھی مذہب نظریے جماعت مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی سوچ ہو اس طرح کی مثالیں سورج کی جگمگاتی کرنیں ہیں جو بتا رہی ہیں ملک ملت بہتری کی جانب گامزن ہیں اگرچہ عام انتخابات کی تیاریوں کا شور غل غلبہ اختیار کیے ہوئے ہے مگر یہ کرنیں گواہی دے رہی ہیں ‘ روشنی کا یہ سفر دھیرے دھیرے بہتری کے رنگ تسلسل کے ساتھ بکھرتا ہی رہے گا یہاں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام بھی برحق توقعات لگائے بیٹھے ہیں وہ سب حقوق اختیار جو اٹھارہویں ترمیم کے تحت چاروں صوبوں کو ملے ہیں ان کو بھی دیئے جائیں اور پاکستان کی ساری قومی قیادت و پالیسیوں کے دِل و دماغ والوں کا مطالبہ کرنے والوں سے زیادہ حمایتی ہونا اخلاص و فیاضیوں کا جذبہ محبت ہے جس کے ثمرات کیلئے سولو فلائٹ سے زیادہ ٹیم ورک نتیجہ خیز ضمانت ہے مگر ناولوں کی طرح پرتجسس کیفیت سے برقع پوشیاں افسانوی ترنگ گورگھ دھندہ کا منظر بتا رہے ہیں لیگی ممبر اسمبلی علی رضا بخاری کے گھر قائمقام صدر ریاست شاہ غلام قادر کے ساتھ بیٹھے وزیر اُمور کشمیر برجیس طاہر کا میڈیا کے استفسار پر یہ کہنا مسلم لیگ آزادکشمیر کی ساری قیادت کو اعتماد میں لیا گیا ہے نہ تاحال ان سے مشورہ ہوا ہے کا مطلب ہے شاہ غلام قادر سمیت پارلیمانی پارٹی کے ارکان بھی کچھ خاص نہیں جانتے کیا ہو رہا ہے تو شاہ غلام قادر سے مہاجرین ممبران اسمبلی راجہ صدیق ‘ چوہدری اسماعیل ‘ چوہدری اسحاق ‘ احمد رضا قادری نے ملاقات کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے مہاجرین کی بارہ نشستوں کا مقدمہ دوبارہ ہائیکورٹ کو بھجوانے کے فیصلہ پر سر جوڑنا و کشمیر کونسل پر لاعلم کیفیت معنی خیز ہے تو آئینی اصلاحات کے حوالے سے کون سی سفارشات پر کام ہو رہا ہے جو قانون سازی اسمبلی سے متفقہ طور پر پاس ہوئی تھیں یا پھر ایوان وزیراعظم میں قانونی ٹیم کے ساتھ نئی تیار کردہ تجاویز ہیں اور انکی وزیراعظم پاکستان منظوری دے چکے ہیں یا دینی ہے ‘ سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کا ابتدائی بذریعہ میڈیا ابتدائی معتدل مشاورتی موقف وزیر خزانہ نجیب نقی کے ہمراہ وزیر اُمور کشمیر سے ملاقات کے راز نیاز سمیت پارلیمانی پارٹی کے سب ہی ممبران کی خاموشیاں افسانے کو دلچسپ بنائے ہوئے ہیں لیکن وزیر اُمور کشمیر کا شاہ غلام قادر کے ساتھ آزادکشمیر کی ن لیگی قیادت حکومت کے پروگرام کو عملدرآمد سے ہمکنار کرنے کا اشارہ سب اُمید سے ہیں کا استخارہ ہے گو کہ وزیراعظم کو استخارہ کیلئے سابق وزیراعظم سکندر حیات نے مجلس عاملہ بشمول پارلیمانی پارٹی اجلاس بلا کر اعتماد میں لینے کا راستہ دکھایا ہے اور وزیراعظم فاروق حیدر کی خارجہ ‘ دفاع ‘ خزانہ ‘ اقتصادیات سمیت متعلقہ اُمور سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء سے ملاقاتوں میں تائید و حمایت کے حصول میں کامیابی کی مترجم تشریحات بکھیر رہے ہیں ‘ مگر اب عرصہ صرف 27اپریل تک کا رہ گیا ہے جس کے اندر جو کچھ کرنا ہے کر لینا چاہیے ‘ ایک خان سے کسی نے پوچھا آج کل کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا یار کتاب لکھ رہا ہوں ’’ پوچھا کیا لکھ رہے ہوں جواب ملا گھوڑا کیسے چلتا ہے پوچھا کتاب کتنے صفحوں کی ہے جواب ملا 200 صفحات پر مشتمل ہے‘ کہا کتاب دکھاؤ تو پہلے صفحے پہ لکھا تھا گھوڑا کیسے چلتا ہے اور آخری صفحہ پر لکھا تھا ٹخا ٹخ ٹخا ٹخ ٹخا ٹخ ‘‘ تاکہ ایسا اختتام نہ ہو‘ پیپلز پارٹی کا شعبہ خواتین داد تحسین کا حقدار ہے ‘ جس کے زیر اہتمام یوم خواتین پر علامتی نہیں واقعتا عوامی طرز کا پروگرام منعقد کیا گیا جس میں کم و بیش ہزار خواتین کی شرکت اور سفید دوپٹوں کے تحفے مشرقی تہذیب تقدیس عورت و شہید بی بی بے نظیر و مقبوضہ کشمیر کی خواتین حریت پسندوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا منفرد اظہار قابل فخر لمحہ تھا جس کے لیے شگفتہ نورین روح رواں فوزیہ حبیب کا عوامی رنگ ‘ شبنم صداقت ‘ نسیم میر ‘ مسرت شیخ ‘ عمارہ علی کی محنت و ریاضت ‘ سابق ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈار کی رہنمائی کا کمال بے نظیر ہونے تک بڑھتے رہنا چاہیے ہے۔سیاست سمیت ہر شعبہ میں ریاضت ہی عزت و توقیر کی حق دار ہے۔