غفلت میں سونے والے مسلمانوں بیدار ہو جاؤ!

تحریر: یاسمین ناز

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا

مسلمانو!
14اگست1947ء کو جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی بڑی نعمت سے نوازا تھا تو اس وقت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں جانیں قربان ہوئیں پھر دنیا نے دیکھ اکہ اس ملک کے ساتھ محبت کرنے کے جرم میں لاکھوں جوانیاں قربان ہو گئیں ۔بے شمار عصمتیں لُٹ گئیں ۔بوڑھے والدین نے لرزتے ہاتھوں سے اپنے جواں بیٹوں کو قربان کر کے اپنا آج ہمارے کل پہ قربان کر دیا اور پوری اسلامی ریاست جو صرف اور صرف اسلام کے نام پر بنی تھی معرض وجود میں آگئی۔لیکن میں دیکھتی ہوں کہ مسلمان اپنی ستر سالہ آزادی کے باوجود اپنی منزل سے کوسوں دور ہیں ۔یہاں کے مسلمان اپنے مقصد کو فراموش کر چکے ہیں ۔وہ نعرہ و کلمہ جو قیام پاکستان کے وقت ہر مسلمان کی زبان پر تھاکہ
پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔لا الہ الا اللہ
آج پاکستان میں بسنے والے مسلمان محض نعرے کی حد تک محدود ہو کر رہ چکے ہیں اور قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔مجھے غفلت میں سوئے ہوئے مسلمانوں کو دیکھ کر یہ شعر یاد آتا ہے
تجھے اپنے آباء سے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تُو گفتار ،وہ کردار،تُو ثابت و سیار
وہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ مسلمانوں تمہیں اپنے آباء و اجداد سے کوئی نسبت اور تعلق نہیں ہو سکتا ۔تو صرف باتیں کرنے والا ہے عملاً تجھ سے کچھ نہیں ہو پاتا جبکہ تیرے اجداد صاحبِ کردار تھے ۔وہ جانتے تھے محض قصیدہ خوانی سے منزلیں ن حاصل نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لئے جدوجہد اور محنت کرنا پڑتی ہے انہوں نے تو تمہیں خودمختاری کا درس دیا تھا اور تم مغرب کے کلچر پر چل نکلے ہو ۔مسلمانوں تمہیں اپنا کردار ایسا بنانا تھا کہ دوسرے تمہاری تقلید کرتے مگر تم اپنی تہذیب کو چھوڑ کر مغرب کی تہذیب کے پیچھے پڑ گئے ۔کاش تم خلفاء راشدین کی تاریخ پڑتے جنہوں نے انصاف کی درخشندہ مثالیں قائم کیں ۔انہوں نے خود پیوند لگے ہوئے کپڑوں میں زندگی گزاری اور پوری دنیا کے مسلمان حکمرانوں کو پیغام دے گئے کہ اسلامی ریاست میں حکمران ،حکمران نہیں ہوتے بلکہ مسلمانوں کے امیر ہوتے ہیں ۔کاش میرے وطن کے مسلمانوں صلاح الدین ایوبی کی تاریخ پڑھتے جنہوں نے تن تنہا پورے یورپ کو شکست دی تھی ،کاش تم محمود غزنوی کی تاریخ پڑتے ۔لیکن افسوس تم نے اپنے اسلاف کے کارناموں کو فراموش کر دیا ۔جنہوں نے پورے دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا تھا ۔اے مسلمانوں میں تو تمہارے سامنے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی صفات بیان کر سکتی ہوں مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارہ۔تو مغرب کی چمکتی تہذیب کا شیدا ان کی سادگی کی عظمت کو کہاں دیکھ سکتا ہے۔
مجھے غفلت میں پڑے مسلمانوں کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ کیا اسی لیے میرے وطن کے بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ملک ہمیں دیا تھا کہ یہاں ظلم اور فساد کا دور دورہ ہو ۔کہ لا الہ الا اللہ نے ہمیں یہی سکھایا تھا کہ مسلمان ایک دوسرے کے دست و گریباں ہو جائیں ۔نہیں ،نہیں اس نے تو ہمیں امن اور اتحاد کا درس دیا تھا ۔مگر افسوس!مسلمان آج اس عظیم مقصد کو فراموش کر چکے ہیں ۔مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ جب یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا تو آج تک اس میں اسلام کے قوانین نافذ کیوں نہ ہو سکے ؟ جب یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا تو آج اس ملک میں شراب کیوں پی جا رہی ہے ؟ جب یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تو آج اس میں گانے کی محفلیں کیوں عام ہیں ؟کیوں گانے والیاں معزز سمجھی جاتی ہیں ۔جب یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا تو میرے وطن کے کونے کونے سے میوزک کی صدائیں کیوں آ رہی ہیں ؟
کاش ! تم اپنے رب کی پکار سنتے ۔پر افسوس تم نے اپنے رب کے پیغام کو بھلا دیا ۔جس نے ہمیں زندگی کی اتنی بڑی نعمت (آزادی) سے نوازا ۔تم نے مغرب کی تہذیب کو تو Followکیا پر اپنے رب کے پیغام کو اپنے بزرگوں کے پیغام کو بھلا بیٹھے ۔
یاد رکھوں تم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک کلام الہٰی سے رہنمائی لیتے ہوئے کاہلی اور غفلت کو نہیں چھوڑ دیتے ۔
میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک پیغام دینا چاہتی ہوں کہ مسلمانو متحد ہو جاؤ اور اپنے تمام اختلافات (نسلی ،جغرافیائی) کو چھوڑ کر ایک ہو جاؤ۔جب تم متحد ہو جاؤ گے تو پوری دنیا کی طاقت بن جاؤ گے اور دشمن اسلام تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ۔ مسلمانو! تمہاری منزل چاند ستاروں سے بھی آگے ہے ۔تمہیں اپنی منزل پر نظر رکھنی ہو گی اور محنت و لگن سے آگے بڑھنا ہو گا ۔
مسلمانو تم اپنے شاندار ماضی کی تاریخ دہرادو۔ان مجاہدو ں کی تاریخ دوہرا دو جنہوں نے دو سپر پاور طاقتیں مختصر سے عرصے میں ختم کر دی تھیں ۔میں اپنے وطن کے مسلمانوں کو یہی پیغام دینا چاہتی ہوں کہ
’’ امید ،ہمت اور خود اعتمادی میرے ہم وطنوں کے لئے یہی میرا پیغام ہے ‘‘۔

دعا
خدا کرے میرے وطن کی ہر گلی سے
آئے صدا لا الہ الا اللہ لا الہ الا اللہ
خدا کرے میری عرض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔
میرے ہم وطنو!
تم ایسا کرنا کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا
تم میرے اندھیروں کی فکر چھوڑو بس اپنے وطن کا خیال رکھنا۔