پاکستان کے ساتھ آزادنہ تجارت کے خواہاں ہیں:جواد ظریف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم پاک ایران بینکاری تعلقات کی بحالی سمیت دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی اور آزادانہ تجارت کے خواہاں ہیں.

ان خیالات کا اظہار ‘محمد جواد ظریف’ نے دورہ پاکستان کے موقع پر ‘اسلام آباد’ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان کے ستاھ بینکنگ شعبے میں تعلقات کی توسیع چاہتا ہے.

پاک ایران سیاسی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ظریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلام آباد اور کراچی کے دوروں کے موقع پر دونوں ممالک کے روابط کو بڑھانے کے لئے موثر مذاکرات کئے جائیں گے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک ایران اقتصادی تعاون کے فروغ کے لئے نجی شعبوں کو مزید کردار ادا کرنا ہوگا.

ظریف نے مزید کہا کہ پاکستان ہمارا اہم ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان غیرمعمولی تعلقات قائم ہیں.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے اس دورے کا مقصد دونوں برادر ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے.

ظریف کا یہ دورہ گزشتہ ستمبر میں ان کے پاکستانی ہم منصب خواجہ محمد آصف کے دورہ ایران کے جواب میں کیاجارہا ہے.

ایرانی وزیر خارجہ آج اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاک ایران تجارتی سمینار میں شرکت اور خطاب کریں گے.

اس کے بعد وہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، اپنے ہم منصب خواجہ محمد آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال کے ساتھ بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے.

محمد جواد ظریف اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز (ISSI) کی خصوصی نشست میں خطاب کریں گے جس کا عنوان پاک ایران تعلقات کے 70 سال اور ان کا مستقل ہے.

اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ساتھ بھی ملیں گے.

دورہ اسلام آباد کے بعد ظریف اپنے اعلی سطحی وفد کے ہمراہ کراچی جائیں گے جہاں وہ دونوں ممالک کے اقتصادی فورم میں شرکت کے علاوہ بانی پاکستان محمد علی جناح (قائد اعظم) کے مزار پر حاضری دیں گے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس دورے کے موقع پر ظریف 30 رکنی وفد کی قیادت کریں گے اور اس دورے کا ایک اہم مقصد دونوں برادر ملک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینا ہے.